الیکشن کمیشن نے فارم 33 پر سلمان اکرم راجہ کی پارٹی ظاہر کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ جماعت ہے، پی ٹی آئی مقررہ وقت میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانے میں ناکام رہی، انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے کے باعث ان کا انتخابی نشان روک لیا گیا، پی ٹی آئی الیکشن ایکٹ سیکشن 209 پر عمل نہ کر سکی اور انتخابی نشان کے لیے نااہل ہوئی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا، سلمان اکرم راجہ نے کہا فارم 33 کے کالم 5 میں ان کی سیاسی جماعت کا نام لکھا جائے، سلمان اکرم راجہ کو پی ٹی آئی کے نامزد کردہ کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا، انتخابی نشان کی غیرموجودگی میں سلمان اکرم راجہ کی پارٹی کا نام فارم 33 پر نہیں لکھا جا سکتا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی چیئرمین کے الیکشن کو قبول نہیں کیا اور سرٹیفکیٹ نوٹیفائی نہیں کیا، گوہر علی خان پی ٹی آئی کے پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کر سکتے، سلمان اکرم راجہ کو آزاد انتخابی نشان دیا گیا، ان کے نام کے سامنے پی ٹی آئی نہیں لکھا جاسکتا، الیکشن رولزکے مطابق سیاسی جماعت وہ ہے جسے الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان دیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سلمان اکرم راجہ جس جماعت سے وابستگی ظاہر کر رہے ہیں اسے الیکشن کمیشن نے پارٹی نشان نہیں دیا، سلمان اکرم راجہ کی جانب سے پارٹی نام لکھنے کا مطالبہ غلط فہمی پر مبنی ہے، سلمان اکرم راجہ کی درخواست مسترد کرتے ہیں۔واضح رہے کہ 2 فروری کو الیکشن کمیشن نےپی ٹی آئی امیدوار سلمان اکرم راجہ کو آزاد امیدوار قرار دینے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔فارم 33 امیدواروں کے ناموں کے مندرجات پر مشتمل فارم ہوتا ہے اور سلمان اکرم راجہ کے فارم 33 پر ان کی پی ٹی آئی سے وابستگی درج نہیں ہے۔











0 Comments