وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس حکام کسی بھی وقت، بغیر پیشگی نوٹس کسی بھی جگہ چھاپہ مار سکتے ہیں، چھاپہ مارنے کے لیے ٹیکس دہندہ کے خلاف پہلے سے کوئی کیس چلنا ضروری نہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے بغیر کیس کے چھاپہ غیر قانونی ہونے کی دلیل مسترد کر دی۔
عدالت کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس حکام کو قانون کے نفاذ کے لیے وسیع اختیارات دیے ہیں، عدالت قانون میں اپنی طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں لگا سکتی جو مقننہ نے نہیں لکھی، جہاں مقننہ کی زبان صریح اور غیر مبہم ہو، وہاں عدالتیں اس میں تخصیص، تخفیف یا تضاد پیدا کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔
کمشنر کو تحریری طور پر بتانا ہو گا کہ کس قانون کی خلاف ورزی پر چھاپہ مارا جا رہا ہے، ٹیکس حکام کمپیوٹر، دستاویزات اور اکاؤنٹس قبضے میں لینے کے مکمل مجاز ہیں۔








0 Comments